عیدالاضحی: عبادت کا ایک خاموش معاشی ماڈل
عیدالاضحی: عبادت کا ایک خاموش معاشی ماڈل
ڈاکٹر آصف نواز
اسسٹنٹ پروفیسر
ہمدرد انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز (HIIS)
جامعہ ہمدرد، نئی دلی
draasifnawaz@gmail.com
9013228794
پچھلے ایک ہفتے میں میرا دہلی کے مختلف مسلم علاقوں سے گزرنا ہوا، اور گزشتہ دو دنوں سے میں لکھنؤ میں ہوں جہاں مجھے مختلف مسلم اور غیر مسلم دونوں طرح کے علاقوں کا تفصیلی مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ ہر طرف ایک عجیب گہما گہمی تھی؛ لوگ بڑی تعداد میں بکرے دیکھ رہے تھے، قیمتوں کا اندازہ لگا رہے تھے اور اپنی پسند کے جانور خرید رہے تھے۔ یہ خریدار تو یقیناً مسلمان تھے، لیکن ایک خاص بات جس نے میری توجہ کھینچی وہ یہ تھی کہ جانور بیچنے والے، انہیں پالنے والے اور منڈیوں تک پہنچانے والے بیوپاریوں میں بڑی تعداد مختلف مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تھی۔
آج صبح جب آنکھ کھلی تو موبائل فون پر خلیجی ممالک میں مقیم دوست و احباب کی جانب سےعید الاضحیٰ کی مبارکباد کے پیغامات موصول ہو رکھے تھے، جس میں قربانی کی اہمیت اور اس کی قبولیت کی دعائیں دی جا رہی تھیں۔ ان پیغامات کو پڑھتے اور پچھلے چند دنوں کے مناظر کو ذہن میں دہراتے ہوئے میرے اندر کا مشاہدہ جاگ اٹھا اور مجھے احساس ہوا کہ ہم عید الاضحیٰ کو عموماً صرف ایک مذہبی رسم، قربانی اور گوشت کی تقسیم کے روایتی تناظر میں دیکھتے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ موجودہ دور میں ہندوستان کے سماجی اور سیاسی پس منظر میں اس عبادت کے ارد گرد کئی طرح کی بحثیں اور تنازعات بھی جنم لے رہے ہیں۔ جانوروں کے حقوق، مخلوط سوسائٹیوں (Mixed Societies) میں رہائشی مقامات پر قربانی کرنے پر ہندو اور بعض اوقات خود مسلم پڑوسیوں کے اعتراضات، اور حکومتوں کی طرف سے مخصوص مقامات یا عارضی شیڈز (Designated Sheds) کے قیام جیسے انتظامی اقدامات—یہ سب ایسے موضوعات ہیں جن پر سماج میں آراء منقسم ہیں۔ یہ خدشات اور ابحاث اپنی جگہ موجود ہیں اور شاید دنیا کے آخری دن تک جاری رہیں گی، کیونکہ کثیر الثقافتی معاشروں میں رہن سہن کے مسائل پر گفتگو ایک فطری عمل ہے۔
لیکن اس وقت میرا مقصد ان بحثوں پر کوئی تبصرہ کرنا یا کسی ایک موقف کی حمایت کرنا نہیں ہے، کیونکہ سماج پہلے ہی ان لکیروں پر بٹا ہوا ہے۔ میری سوچ اور مشاہدے کا زاویہ اس روایتی اور سیاسی بحث سے بالکل مختلف اور ایک اچھوتے نظریاتی پہلو پر مرکوز ہے۔ میرا یہ پختہ یقین ہے کہ دنیا کے مختلف مذاہب میں جہاں بہت سی عبادات بندے کو خدا سے جوڑتی ہیں، وہیں ان کے پیچھے ایک انتہائی مضبوط اور ناگزیر معاشی ماڈل (Economic Model) کارفرما ہوتا ہے، جو دانستہ یا نادانستہ طور پر پورے سماج کے معاشی پہیے کو متحرک رکھتا ہے۔
یہ تحریر اسی مربوط، وسیع اور بین المذاہب معاشی پس منظر کا ایک تفصیلی احاطہ ہے:
عبادات بطور معاشی محرک: ایک عالمگیر حقیقت
اگر ہم مذاہب کی تاریخ اور ان کے بنیادی ارکان کا گہرائی سے مطالعہ کریں، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عبادات محض روحانی تسکین کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ مارکیٹ میں سرمائے کی گردش (Circulation of Wealth) کا ایک خودکار نظام فراہم کرتی ہیں:
ہندوستان میں ہندوانہ تہوار: دیوالی، درگا پوجا، گنیش اتسو اور کمبھ میلے جیسے بڑے مذہبی اجتماعات کو دیکھیں۔ ان تہواروں کے دوران مورتیاں بنانے والے دستکاروں، مٹی کے دیئے بنانے والے کمہاروں، پھولوں کے کاشتکاروں، مٹھائی سازوں اور کپڑے کے تاجروں کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ لاکھوں غریب خاندانوں کا سال بھر کا چولہا ان چند دنوں کی فروخت پر منحصر ہوتا ہے۔
مسیحیت میں کرسمس اور ایسٹر: مغربی دنیا میں کرسمس کا سیزن پوری عالمی معیشت کو سہارا دیتا ہے۔ خوردہ فروشی (Retail Sector)، کھلونوں کی صنعت، لکڑی کے دستکار، الیکٹرانکس اور سیاحت کی صنعتیں اس ایک تہوار کے گرد گھومتی ہیں، جسے معاشی اصطلاح میں "کرسمس بوم" کہا جاتا ہے۔
اسلام میں حج اور عیدین: خود اسلام میں حج کی مثال لیں۔ یہ صرف ایک روحانی سفر نہیں ہے، بلکہ قدیم دور سے لے کر آج تک یہ بین الاقوامی تجارت، ایوی ایشن (Aviation)، ہاسپیٹلٹی (Hospitality) اور امپورٹ ایکسپورٹ کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک رہا ہے، جو ایک زمانے میں باقاعدہ بارٹر سسٹم (تبادلۂ مال) کے ذریعے مختلف ممالک کے تاجروں کو جوڑتا تھا۔
اگرچہ یہ چند مثالیں ان تین بڑے مذاہب سے لی گئی ہیں، لیکن اگر دنیا کے دیگر مذاہب اور ان کے تہواروں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے، تو ان سب کے پیچھے یہی مربوط معاشی ماڈل کارفرما نظر آئے گا۔ مذہبی روایات کا یہ معاشی پہلو کسی ایک خطے یا عقیدے تک محدود نہیں، بلکہ ایک عالمگیر سچائی ہے۔
چونکہ موقع عید الاضحیٰ کا ہے، اس لیے ہم اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر اس تہوار کا تفصیلی احاطہ کریں گے، جو آج ہندوستان جیسے کثیر الثقافتی اور ترقی پذیر ملک میں معاشی توازن کو برقرار رکھنے اور شہری سرمائے کو دیہی علاقوں تک پہنچانے میں ایک غیر معمولی اور خاموش کردار ادا کر رہا ہے۔
بین المذاہب ہم آہنگی اور مشترکہ معیشت
اس پورے عمل کا سب سے خوبصورت پہلو وہ پوشیدہ سماجی ہم آہنگی ہے جو مارکیٹ کی سطح پر نظر آتی ہے۔ عید الاضحیٰ ہندوستان کی سب سے بڑی غیر رسمی معاشی سرگرمیوں (Informal Economic Activities) میں سے ایک ہے، جہاں مڈل مین، کسان اور خریدار کے درمیان مذہب کی دیواریں گر جاتی ہیں۔
ایک مسلم خریدار جب قربانی کا جانور خریدتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر ایک ایسے دیہی کسان کی سال بھر کی محنت کا معاوضہ ادا کر رہا ہوتا ہے جو شاید کسی دوسرے مڈل کلاس یا غریب ہندو خاندان کا اثاثہ تھا۔ یہ تہوار ایک ایسا معاشی پل بن جاتا ہے جہاں عقیدت اور روزگار مل کر معاشرے کو آپس میں جوڑتے ہیں، اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ زمین پر انسانوں کا رزق ایک دوسرے سے کس طرح وابستہ ہے۔
شہروں سے دیہاتوں کی طرف سرمائے کی منتقلی (Reverse Wealth Flow)
جدید معاشیات میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ دولت کو شہروں کے ارتکاز اور ہائی کلاس سوسائٹیوں سے نکال کر غریب دیہاتوں تک کیسے پہنچایا جائے۔ عید الاضحیٰ کا یہ پورا سیزن اس عالمی اقتصادی مسئلے کا ایک قدرتی اور مذہبی حل پیش کرتا ہے۔
اندازوں کے مطابق، چند دنوں کے اندر ہزاروں کروڑ روپے شہروں میں بسنے والوں کی جیبوں سے نکل کر دور دراز کے دیہی علاقوں—جیسے اتر پردیش کے مضافات، راجستھان کے صحرائی علاقوں اور ہریانہ کے چراہ گاہوں—تک منتقل ہو جاتے ہیں۔اور کچھ ایسی ہی صورتحال دیگر ریاستوں میں بھی ہوتی ہے۔ یہ وہ خطیر سرمایہ ہے جو دیہی معیشت میں نئی جان پھونک دیتا ہے، کسانوں کو آنے والے زرعی سیزن کے لیے بیج اور کھاد خریدنے کے قابل بناتا ہے، اور وہاں کے لوگوں کو مائع رقم (Liquidity) فراہم کرتا ہے۔
سپلائی چین کا ایک جامع اور خودکار نیٹ ورک
اس عید قرباں کے گرد صرف ایک جانور کا خریدار اور بیچنے والا نہیں کھڑا ہوتا ہے، بلکہ اس سے ایک طویل رسدی سلسلہ (Supply Chain) وابستہ ہے جس میں ہر کڑی کو اس کا رزق ملتا ہے:
مویشی پالنے والے (Breeders & Farmers): جن کے لیے یہ سال کا سب سے بڑا ریونیو سیزن ہوتا ہے اور وہ اپنے جانوروں کو اس خاص موقع کے لیے تیار کرتے ہیں۔
چارہ اور خوراک کے تاجر: جانوروں کے شہر پہنچتے ہی ہر گلی محلے میں چارے، بھوسے اور دانوں کی عارضی دکانیں سج جاتی ہیں، جس سے دیہی سپلائرز کو براہِ راست فائدہ ہوتا ہے۔
ٹرانسبورٹ اور لاجسٹکس: دیہاتوں سے شہروں تک لاکھوں جانور لانے کے لیے ٹرکوں، پک اپ گاڑیوں اور مقامی ٹرانسپورٹرز کو بڑے پیمانے پر کام ملتا ہے۔
مقامی دستکار اور چھوٹے دکاندار: جانوروں کی سجاوٹ کا سامان، خوبصورت رنگین رسیاں، گھنگھرو اور مہریں بنانے والے چھوٹے کاریگر اپنی سال بھر کی کمائی ان چند دنوں میں کرتے ہیں۔
خدمات کا شعبہ (قصائی اور مزدور): عید کے دنوں میں قصاب برادری، چھریاں تیز کرنے والے صیقل گر اور ان کے ساتھ کام کرنے والے دیہی مزدوروں کی آمدن اپنے عروج پر ہوتی ہے، جس سے ان کے اپنے گھروں کی عید کا انتظام ہوتا ہے۔
صنعتی پہیہ اور ملکی برآمدات (Macro-Economic Impact)
بات صرف گوشت کے دسترخوان تک پہنچنے پر ختم نہیں ہوتی۔ قربانی کا ایک بہت بڑا بائی پروڈکٹ (By-product) جانوروں کی کھالیں ہیں۔ عید کے بعد لاکھوں کی تعداد میں یہ کھالیں ہندوستان کی چمڑے کی صنعت، خاص طور پر کانپور، آگرہ اور چنئی جیسے بین الاقوامی سطح کے لیدر کلسٹرز کے لیے خام مال (Raw material) بنتی ہیں۔
یہ چمڑا آگے چل کر جوتے، جیکٹس، بیگز اور دیگر صنعتی اشیاء کی شکل میں نہ صرف ملکی ضرورت پوری کرتا ہے بلکہ بڑے پیمانے پر ایکسپورٹ (Export) ہو کر ملک کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کا سبب بنتا ہے۔ یعنی ایک مذہبی فریضہ ملک کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو سستا خام مال فراہم کر کے صنعتی پہیے کو متحرک رکھتا ہے۔
ایک نامیاتی اور خود کفیل نظام (Organic Marketplace)
اس پورے نظام کی سب سے حیران کن بات اس کی خود اختیاری اور لچک ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں معیشت کو چلانے کے لیے اربوں روپے کی سبسڈیز دیتی ہیں، پیکیجز کا اعلان کرتی ہیں، اور طویل مانیٹرنگ رپورٹس تیار کرتی ہیں، تب جا کر مارکیٹ میں تھوڑی سی حرکت پیدا ہوتی ہے۔
لیکن عید کا یہ معاشی ماڈل کسی سرکاری بجٹ، کارپوریٹ اشتہار یا "پروجیکٹ لانچ" کا محتاج نہیں ہے۔ یہ مکمل طور پر ایک خود کار اور نامیاتی (Organic) نظام ہے جو عوامی ضرورت، عقیدت اور سپلائی چین کے توازن پر ہر سال خود بخود کھڑا ہو جاتا ہے اور بغیر کسی معاشی تعطل کے اپنا کام مکمل کر کے لپٹ جاتا ہے۔
حاصلِ کلام
عام طور پر منڈیوں کا رخ کرتے ہوئے، سماجی بحثوں میں حصہ لیتے ہوئے یا سوشل میڈیا پر تبصرے کرتے ہوئے ہمارا دھیان صرف انتظامی مسائل یا جانوروں کی قیمت پر جاتا ہے کہ: "اس سال تو مہنگائی بہت ہے، جانور بہت مہنگے ہو گئے ہیں۔" لیکن اگر ہم اس کینوس کو عقیدت کی لکیروں سے آگے بڑھا کر معاشی عینک سے دیکھیں، تو سمجھ آتا ہے کہ اس جانور کی قیمت دراصل ایک ایسی مائیکرو فنانسنگ (Micro-financing) ہے جو کسی غریب کسان کی بیٹی کی شادی، کسی کے بچے کی اسکول کی فیس، کسی دستکار کے گھر کا راشن اور کسی مزدور کے چولہے کا سبب بن رہی ہے۔
عید الاضحیٰ محض ایک عبادت یا روایتی تہوار نہیں ہے، یہ خاموشی سے دھڑکنے والی ایک ایسی معیشت ہے جو ہندوستان کے شہری اور دیہی طبقات کو، بلا تفریقِ مذہب و ملت، ایک لڑی میں پروتی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی بقا اور معیشت کا نظام کس طرح اعلیٰ ترین الہامی حکمتوں کے تحت ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔

Comments
Post a Comment