دعا اور بیج — مٹی اور اخلاص
دعا اور بیج — مٹی اور اخلاص ڈاکٹر آصف نواز اسسٹنٹ پروفیسر، جامعہ ہمدرد ایک ایسے بیج کا تصور کیجیے جو زمین کی تاریک گہرائیوں میں چھپ کر خاموشی سے جڑیں پکڑتا ہے، اور پھر ایک دن ایسا تناور درخت بن کر ابھرتا ہے جس کی شاخیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں اور جس کا پھل ساری دنیا کو فیض یاب کرتا ہے۔ لیکن اگر وہی بیج زمین کی سطح پر ہی پڑا رہے، تو وہ دھوپ کی شدت سے سوکھ جائے گا۔ وہ نہ کبھی جڑ پکڑے گا، نہ پودا بنے گا، اور نہ ہی کوئی پھل دے گا؛ بلکہ کچھ ہی عرصے بعد مٹی میں مل کر اپنا وجود کھو دے گا۔ دعاؤں اور عبادات کی مثال بھی بالکل اسی بیج جیسی ہے۔ اگر دعائیں دکھاوے کی چکاچوند میں، لوگوں کی نگاہوں کے سامنے، بلند آواز میں، یا آج کے دور میں سوشل میڈیا کے شوروغل میں کی جائیں، تو وہ اللہ کی بارگاہِ قبولیت تک نہیں پہنچ پاتیں۔ وہ زمین کی سطح پر پڑے اس بیج کی مانند ہو جاتی ہیں جو کبھی ثمر آور نہیں ہوتا۔ اس لیے دعائیں ہمیشہ پوشیدہ طور پر مانگنی چاہئیں۔ تنہائی میں، رات کے اندھیرے میں، دل کی گہرائیوں سے، خاموشی کے ساتھ اور دنیا کی نظروں سے بچا کر۔ درحقیقت، اخلاص ہی وہ زرخیز مٹی ہے جس میں دعا کا بیج پ...