Posts

Beyond the Ledger of Faith: The Unseen Economy of Eid al-Adha

Image
  Beyond the Ledger of Faith: The Unseen Economy of Eid al-Adha Dr. Asif Nawaz Assistant Professor Hamdard Institute of International Studies (HIIS) Jamia Hamdard, New Delhi Email: draasifnawaz@gmail.com Mobile: +91-9013228794 Walking through the bustling lanes of Delhi’s Muslim dominated Neighborhoods in last one week, and later navigating the vibrant, multi-cultural quarters of Lucknow in the last two days, I found myself swept up in a unique pre-festival energy of Eid-Ul-Adha. The streets were alive with a distinct fervour; crowds milled around temporary livestock markets, sizing up goats, negotiating prices, and making their purchases for sacrifice on the occasion of Eid al-Adha. While the buyers were predictably Muslim, a closer look at the other side of the transaction revealed a fascinating counter-narrative: the sellers, breeders, and middle-men transporting these animals from the hinterlands belonged overwhelmingly to various different faiths and communities. This visual c...

دعا اور بیج — مٹی اور اخلاص

دعا اور بیج  —  مٹی اور اخلاص ڈاکٹر آصف نواز اسسٹنٹ پروفیسر، جامعہ ہمدرد ایک ایسے بیج کا تصور کیجیے جو زمین کی تاریک گہرائیوں میں چھپ کر خاموشی سے جڑیں پکڑتا ہے، اور پھر ایک دن ایسا تناور درخت بن کر ابھرتا ہے جس کی شاخیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں اور جس کا پھل ساری دنیا کو فیض یاب کرتا ہے۔ لیکن اگر وہی بیج زمین کی سطح پر ہی پڑا رہے، تو وہ دھوپ کی شدت سے سوکھ جائے گا۔ وہ نہ کبھی جڑ پکڑے گا، نہ پودا بنے گا، اور نہ ہی کوئی پھل دے گا؛ بلکہ کچھ ہی عرصے بعد مٹی میں مل کر اپنا وجود کھو دے گا۔ دعاؤں اور عبادات کی مثال بھی بالکل اسی بیج جیسی ہے۔ اگر دعائیں دکھاوے کی چکاچوند میں، لوگوں کی نگاہوں کے سامنے، بلند آواز میں، یا آج کے دور میں سوشل میڈیا کے شوروغل میں کی جائیں، تو وہ اللہ کی بارگاہِ قبولیت تک نہیں پہنچ پاتیں۔ وہ زمین کی سطح پر پڑے اس بیج کی مانند ہو جاتی ہیں جو کبھی ثمر آور نہیں ہوتا۔ اس لیے دعائیں ہمیشہ پوشیدہ طور پر مانگنی چاہئیں۔ تنہائی میں، رات کے اندھیرے میں، دل کی گہرائیوں سے، خاموشی کے ساتھ اور دنیا کی نظروں سے بچا کر۔ درحقیقت، اخلاص ہی وہ زرخیز مٹی ہے جس میں دعا کا بیج پ...

سعودی عرب کا یومِ تاسیس: تین صدیوں پر محیط تاریخ، نیا قومی بیانیہ اور وژن 2030

Image
  ڈاکٹر آصف نواز اسسٹنٹ پروفیسر ہمدرد انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز (HIIS) جامعہ ہمدرد، نئی دلی draasifnawaz@gmail.com 9013228794 قوموں کی تاریخ محض گزرے ہوئے واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ وہ فکری اور سیاسی بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر ان کے شاندار مستقبل کی عمارت استوار کی جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص جزیرہ نما عرب کا کلیدی ملک، جسے 1932ء سے 'مملکتِ سعودی عرب' کے نام سے جانا جاتا ہے، تین صدیوں پر محیط ایک شاندار تاریخی وراثت کا امین ہے۔ اس مملکت کے طویل ارتقائی سفر اور تاریخی جدوجہد میں چند ایام ایسی کلیدی اہمیت کے حامل ہیں، جن کی بازگشت اس کی پوری تاریخ میں سنائی دیتی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سال 2022ء تک سعودی عرب میں عوامی سطح پر محض تین سرکاری تعطیلات منائی جاتی تھیں۔ ان میں دو کا تعلق مذہبی تہواروں (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) سے تھا، جبکہ ایک قومی نوعیت کی چھٹی 'سعودی یومِ وطنی' (Saudi National Day) کے طور پر منائی جاتی تھی۔ تاہم، 2022ء میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ایک تاریخی شاہی فرمان کے ذریعے 22 فروری کو 'یومِ تاسیس' (Foundin...