دعا اور بیج — مٹی اور اخلاص
دعا اور بیج — مٹی اور اخلاص
ڈاکٹر آصف نواز
اسسٹنٹ پروفیسر، جامعہ ہمدرد
ایک ایسے بیج کا تصور کیجیے جو زمین کی تاریک گہرائیوں میں چھپ کر خاموشی سے جڑیں پکڑتا ہے، اور پھر ایک دن ایسا تناور درخت بن کر ابھرتا ہے جس کی شاخیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں اور جس کا پھل ساری دنیا کو فیض یاب کرتا ہے۔ لیکن اگر وہی بیج زمین کی سطح پر ہی پڑا رہے، تو وہ دھوپ کی شدت سے سوکھ جائے گا۔ وہ نہ کبھی جڑ پکڑے گا، نہ پودا بنے گا، اور نہ ہی کوئی پھل دے گا؛ بلکہ کچھ ہی عرصے بعد مٹی میں مل کر اپنا وجود کھو دے گا۔
دعاؤں اور عبادات کی مثال بھی بالکل اسی بیج جیسی ہے۔ اگر دعائیں دکھاوے کی چکاچوند میں، لوگوں کی نگاہوں کے سامنے، بلند آواز میں، یا آج کے دور میں سوشل میڈیا کے شوروغل میں کی جائیں، تو وہ اللہ کی بارگاہِ قبولیت تک نہیں پہنچ پاتیں۔ وہ زمین کی سطح پر پڑے اس بیج کی مانند ہو جاتی ہیں جو کبھی ثمر آور نہیں ہوتا۔ اس لیے دعائیں ہمیشہ پوشیدہ طور پر مانگنی چاہئیں۔ تنہائی میں، رات کے اندھیرے میں، دل کی گہرائیوں سے، خاموشی کے ساتھ اور دنیا کی نظروں سے بچا کر۔ درحقیقت، اخلاص ہی وہ زرخیز مٹی ہے جس میں دعا کا بیج پھلتا پھولتا ہے۔
یہ اصول محض دعاؤں تک محدود نہیں، بلکہ اللہ کی رضا کے لیے کی جانے والی ہر عبادت پر لاگو ہوتا ہے؛ چاہے وہ نماز ہو، روزہ، صدقہ و خیرات، حج، تلاوتِ قرآن، یا پھر ایک سادہ سی تسبیح۔ جب یہ اعمال محض لوگوں کو دکھانے کے لیے کیے جاتے ہیں تو ان کی اصل روح پرواز کر جاتی ہے اور پیچھے صرف ایک بے جان، کھوکھلا اور بے مزہ جسمانی عمل باقی رہ جاتا ہے۔
آج کے پرفتن دور میں ریاکاری کی یہ بیماری عبادات میں سب سے زیادہ در آئی ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک پر لوگ دورانِ طواف لائیو ویڈیوز، افطار کی سٹوریز، زکوٰۃ کی رسیدیں، اور حتیٰ کہ تہجد پڑھتے ہوئے اپنی تصاویر شیئر کر رہے ہوتے ہیں۔ "لوگوں دیکھ لو، میں کتنا نیک ہوں" کا یہ خاموش اعلان اللہ کی بارگاہ میں ہرگز قبول نہیں ہوتا، بلکہ یہ شیطان کی مسرت کا باعث بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دعا کے آداب سکھاتے ہوئے واضح طور پر ارشاد فرماتاہے:
﴿ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾
"اور اپنے رب کو گڑگڑا کر اور خاموشی (خفیہ طور) سے پکارو۔ بے شک وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔" (سورۃ الأعراف: 55)
اسی طرح صدقہ و خیرات کے حوالے سے دکھاوے سے بچنے کی ترغیب دیتے ہوئے اللہ فرماتاہے:
﴿إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ﴾
"اگر تم صدقات کو ظاہر کرو تو وہ بھی اچھا ہے، اور اگر تم انہیں چھپا کر محتاجوں کو دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔" (سورۃ البقرۃ: 271)
نبی کریم ﷺ نے ریاکاری کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے اسے 'شرکِ اصغر' (چھوٹا شرک) کہا ہے:
«إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ». قَالُوا: وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «الرِّيَاءُ»
"مجھے تم پر سب سے زیادہ خوف چھوٹے شرک کا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! چھوٹا شرک کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ریاکاری (دکھاوا)۔" (مسند احمد: 23630)
ایک اور مشہور حدیثِ مبارکہ میں ریاکاری کے ہولناک انجام کا ذکر ہے۔ صحیح مسلم کی طویل حدیث کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جن تین قسم کے لوگوں کے خلاف فیصلہ سنایا جائے گا، وہ ایک شہید، ایک عالم/قاری، اور ایک سخی ہوں گے۔ جب ان کے اپنے بظاہر عظیم اعمال اللہ کے سامنے پیش کیے جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمائے گا:
«كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ...»
"تم جھوٹ بولتے ہو، تم نے یہ سب اس لیے کیا تھا تاکہ (لوگوں میں) کہا جائے (کہ تم بہادر، عالم یا سخی ہو، اور وہ کہا جا چکا)۔" پھر انہیں منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم: 1905، اختصار کے ساتھ)
ریاکاری بظاہر چھوٹا شرک ہے، لیکن اس کا اثر اس قدر تباہ کن ہے کہ یہ انسان کی ساری زندگی کی محنت کو راکھ کر دیتی ہے۔ جب تک دل میں یہ تمنا باقی رہے کہ "لوگ مجھے دیکھیں اور میری تعریف کریں"، تب تک عمل اللہ کے لیے خالص نہیں رہتا۔ اس کا نتیجہ دنیا میں چند جھوٹی تعریفوں اور 'لائکس' کی صورت میں تو مل سکتا ہے، لیکن آخرت میں انسان کے ہاتھ مکمل طور پر خالی رہ جائیں گے۔
اس کے برعکس، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی زندگیاں اخلاص کا اعلیٰ ترین نمونہ تھیں۔ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہما اپنا مال اس خاموشی سے اللہ کی راہ میں لٹاتے کہ کسی کو خبر تک نہ ہوتی۔ اور خود سرورِ کائنات ﷺ راتوں کو اٹھ کر اپنے رب کے حضور اس قدر طویل قیام فرماتے کہ قدم مبارک سوج جاتے اور آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں ہوتا، لیکن یہ سب دنیا کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوتا تھا۔
تو پھر ہم اس فتنے سے کیسے بچیں؟
اصلاحِ نیت: ہر نیک عمل سے پہلے اپنے دل کو ٹٹولیں اور خود سے سوال کریں: "کیا یہ عمل خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہے یا لوگوں کی واہ واہہی سمیٹنے کے لیے؟"
عبادات کو چھپانا: دعائیں بند کمرے میں، رات کے آخری پہر، گریہ و زاری کے ساتھ کریں۔ سنن اور نوافل گھر کی تنہائی میں ادا کریں۔ صدقہ اس طرح دیں کہ بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ روزے اور دیگر نفلی عبادات کا پرچار کرنے سے گریز کریں۔
سوشل میڈیا سے پرہیز: عبادات کی نمائش کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال ترک کر دیں۔ اگر کوئی دینی بات شیئر کرنی مقصود ہو تو نیت صرف دوسروں کی اصلاح و رہنمائی ہو، اپنی پارسائی کا اشتہار ہرگز نہیں۔
یاد رکھیں! اللہ ظاہر کو نہیں، دلوں کے رازوں کو دیکھتا ہے۔ وہ سطح پر بکھرے بیجوں کو نہیں اگاتا، بلکہ گہرائی میں چھپے خلوص کے بیجوں کو جنت کے باغات میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اخلاص ہی وہ آبِ حیات ہے جو دعا کو تناور درخت بناتا ہے، اور یہی وہ نور ہے جو عبادات کو شرفِ قبولیت بخشتا ہے۔
آئیے! آج سے یہ عزم کریں کہ ہماری ہر دعا، ہر نماز اور ہر صدقہ دنیاوی سطح پر نہیں، بلکہ دل کی اتھاہ گہرائیوں میں چھپا رہے گا۔ کیونکہ قیامت کے دن صرف وہی اعمال ہمارا بوجھ ہلکا کریں گے جو خالصتاً ربِ ذوالجلال کے لیے کیے گئے ہوں گے۔
Comments
Post a Comment