سعودی عرب کا یومِ تاسیس: تین صدیوں پر محیط تاریخ، نیا قومی بیانیہ اور وژن 2030
ڈاکٹر آصف نواز
اسسٹنٹ پروفیسر
ہمدرد انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز (HIIS)
جامعہ ہمدرد، نئی دلی
draasifnawaz@gmail.com
9013228794
![]() |
قوموں کی تاریخ محض گزرے ہوئے واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ وہ فکری اور سیاسی بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر ان کے شاندار مستقبل کی عمارت استوار کی جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص جزیرہ نما عرب کا کلیدی ملک، جسے 1932ء سے 'مملکتِ سعودی عرب' کے نام سے جانا جاتا ہے، تین صدیوں پر محیط ایک شاندار تاریخی وراثت کا امین ہے۔ اس مملکت کے طویل ارتقائی سفر اور تاریخی جدوجہد میں چند ایام ایسی کلیدی اہمیت کے حامل ہیں، جن کی بازگشت اس کی پوری تاریخ میں سنائی دیتی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ سال 2022ء تک سعودی عرب میں عوامی سطح پر محض تین سرکاری تعطیلات منائی جاتی تھیں۔ ان میں دو کا تعلق مذہبی تہواروں (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) سے تھا، جبکہ ایک قومی نوعیت کی چھٹی 'سعودی یومِ وطنی' (Saudi National Day) کے طور پر منائی جاتی تھی۔ تاہم، 2022ء میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ایک تاریخی شاہی فرمان کے ذریعے 22 فروری کو 'یومِ تاسیس' (Founding Day) اور پھر 2023ء میں 11 مارچ کو 'یومِ پرچم' (Flag Day) کے نام سے مزید دو قومی تعطیلات کا اضافہ کیا گیا، جس نے مملکت کے قومی بیانیے میں ایک نئی جہت متعارف کرائی۔
آج 22 فروری ہے، اور گزشتہ پانچ برسوں سے مملکتِ سعودی عرب اپنا 'یومِ تاسیس' انتہائی شان و شوکت اور قومی فخر کے ساتھ منا رہا ہے۔ یہ دراصل سعودی عرب کا 300واں یومِ تاسیس ہے، جو 1727ء کے اس تاریخی دن کی یاد دلاتا ہے جب امام محمد بن سعود (1687 – 1765) نے درعیہ کی امارت سنبھال کر پہلی سعودی ریاست کی بنیاد رکھی تھی۔ اگرچہ یہ واقعہ تین صدیاں پرانا ہے، مگر اسے سرکاری سطح پر منانے کا آغاز 27 جنوری 2022ء کے شاہی فرمان کے بعد ہی ممکن ہوا۔ اس سے قبل، ریاستی سطح پر منایا جانے والا واحد قومی دن 23 ستمبر کا 'سعودی یومِ وطنی' تھا، جو 1932ء میں شاہ عبدالعزیز (1876 – 1953) کی قیادت میں جدید سعودی مملکت کے اتحاد اور باقاعدہ قیام کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ (واضح رہے کہ یومِ وطنی کا باقاعدہ آغاز بھی 1932ء کے فوراً بعد نہیں ہوا تھا، بلکہ 1965ء میں شاہ فیصل (1906 – 1975)کے دور میں اسے سرکاری طور پر منانے کی روایت پڑی اور 2005ء میں شاہ عبداللہ (1924 – 2014) کے زمانے میں اسے پہلی بار عام تعطیل کا درجہ ملا)۔
تاریخی بیانیے کے حوالے سے 2022ء سے قبل، مورخین اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے درمیان یہ روایتی نقطہ نظر رائج تھا کہ پہلی سعودی ریاست کا قیام 1744ء (1157 ہجری) میں عمل میں آیا، جب امام محمد بن سعود (1687 – 1765)اور مشہور مذہبی مصلح شیخ محمد بن عبدالوہاب (1703 – 1792) کے درمیان ' میثاقِ درعیہ' طے پایا۔ یہ ایک نظریاتی اتحاد تھا جس نے آلِ سعود کو مذہبی جواز فراہم کیا اور جزیرہ نما عرب میں ان کی فتوحات کی راہ ہموار کی۔ تاہم، 2022ء کے بعد کے سرکاری بیانیے میں 1727ء کو دانستہ طور پر ترجیح دی گئی تاکہ ریاست کی تاریخ کو مکمل تین صدیاں پرانا ثابت کیا جا سکے۔ اس تبدیلی کا مقصد آلِ سعود کی آزاد سیاسی قیادت پر زور دینا اور نظریاتی اور مذہبی اتحاد کی مرکزی حیثیت کو کم کرنا ہے، جو موجودہ قیادت کے 'وژن 2030' کے تحت جدید قومی شناخت کی کوششوں سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔
آج منایا جانے والا سعودی عرب کا 300 واں یومِ تاسیس اس اہم تاریخی موڑ کی یاد دلاتا ہے جب امام محمد بن سعود نے بکھرے ہوئے عرب قبائل کو ایک سیاسی پرچم تلے جمع کر کے پہلی سعودی ریاست کی بنیاد رکھی۔ دوسری جانب، 23 ستمبر کو منایا جانے والا "یومِ وطنی" اس عظیم جدوجہد کا ثمر ہے جس کا آغاز شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود (ابنِ سعود) نے کیا اور 1932ء میں جزیرہ نما عرب کی بکھری ہوئی سیاسی و انتظامی اکائیوں کو متحد کر کے اسے "المملکۃ العربیۃ السعودیۃ" کا نام دیا۔
مختصراً، جہاں یومِ تاسیس ریاست کی قدامت اور اس کی جڑوں (Roots) کی علامت ہے، وہیں یومِ وطنی جدید مملکت کے اتحاد اور استحکام (Unity) کا نشان ہے۔ آج سعودی عرب جہاں "وژن 2030" کے تحت ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے، وہیں ان ایام کو منانے کا بنیادی مقصد نئی نسل کو یہ باور کرانا ہے کہ ان کا ملک ریت پر کھڑی کوئی عارضی عمارت نہیں، بلکہ تین صدیوں کی قربانیوں اور مستحکم سیاسی بصیرت کا نتیجہ ہے۔
2022ء میں شاہ سلمان کا یہ فیصلہ محض کیلنڈر میں ایک اور چھٹی کا اضافہ نہیں تھا، بلکہ یہ سعودی عرب کی تاریخ، اس کے ریاستی بیانیے، اور وژن 2030 کے تحت اس کی مستقبل کی سمت کو ازسرِ نو متعین کرنے کا ایک انتہائی جرات مندانہ اور تزویراتی (Strategic) قدم تھا۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی بات کا مزید تفصیلی جائزہ لیں گے کہ سعودی عرب نے اپنی تاریخ کو 1744ء کے بجائے 1727ء تک پیچھے لے جانے کا فیصلہ کیوں کیا، موجودہ قیادت ان اقدامات کے ذریعے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے، اور عصری تقاضوں کے تناظر میں اس 300 سالہ تاریخ کی کیا اہمیت ہے۔
1727 سے قبل کا عرب: انتشار اور طوائف الملوکی کا دور
1727ء میں پہلی سعودی ریاست کے قیام کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس دور کے جزیرہ نما عرب کے حالات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ 18ویں صدی کے اوائل میں، جزیرہ نما عرب اور بالخصوص نجد کا وسطی علاقہ کسی بھی مرکزی حکومت سے محروم تھا۔ قبائل اور چھوٹی چھوٹی شہری ریاستیں (City-states) پانی، چراگاہوں اور تجارتی راستوں پر قبضے کے لیے مسلسل ایک دوسرے سے برسرِ پیکار تھیں۔
![]() |
| 1946 کی ابہا شہر کے شادا محل کی ایک تصویر، جومملکتِ سعودی عرب میں واقع ہے اور جس کی اصل تعمیر 1820 میں ہوئی تھی۔(فوٹو کریڈٹ : www.eurasiareview.com) |
مشہور سعودی تاریخ دان عثمان بن بشر (1796 – 1873)کے مطابق، اس دور میں نجد کو نہ صرف قبائلی جنگوں کا سامنا تھا بلکہ شدید موسمیاتی اور معاشی بحرانوں نے بھی خطے کو تباہ کر رکھا تھا۔ 1716 میں درعیہ کے قریبی قصبوں میں قحط پڑا، 1724 اور 1725 میں شدید خشک سالی ہوئی، اور 1726 میں ایک ہولناک وبا پھیلی جس نے کئی بستیوں کو ویران کر دیا ۔ درعیہ کا شہر خود اندرونی چپقلش کا شکار تھا اور دو حصوں، 'غصیبہ' (جس پر ربیعہ خاندان کا غلبہ تھا) اور 'الملیبید' (جہاں مقرن خاندان آباد تھا) میں بٹا ہوا تھا (آل سعود کا خاندان مقرن خاندان سے ہی نکلتا ہے۔ آل سعود کے بانی محمد بن سعود کے والد سعود بن محمد بن مقرن تھے)۔ اس چاروں طرف پھیلی مایوسی اور عدم تحفظ کے دور میں ایک ایسی قیادت کی ضرورت تھی جو خطے کو متحد کر سکے۔
1727: امام محمد بن سعود اور ایک نئی ریاست کا ظہور
22فروری 1727 کی وہ تاریخ جب امام محمد بن سعود نے درعیہ کی امارت سنبھالی، جزیرہ نما عرب کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ امام محمد بن سعود نے روایتی خانہ بدوش قبائلی سرداروں کے برعکس ایک منظم حکمران کی طرح سوچنا شروع کیا۔ ان کی سب سے پہلی کامیابی درعیہ کے منقسم علاقوں کو ایک مضبوط اور متحد شہر میں تبدیل کرنا تھا۔
![]() |
امام محمد بن سعود: سعودی اتحاد کی علامت |
امام محمد بن سعود کی حکمرانی کی بنیاد محض طاقت پر نہیں تھی، بلکہ انہوں نے ایک نیا "سماجی معاہدہ" (Social Contract) متعارف کرایا جسے تاریخ دان "باہمی رضامندی کی اتھارٹی" (Consensual Authority) قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے عوام، پڑوسی قصبوں اور قبائل کو یہ باور کرایا کہ مسلسل جنگ وجدل کے بجائے اتحاد اور امن سب کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے تجارتی قافلوں اور حجاج کرام کے راستوں کو محفوظ بنایا۔ اس سے علاقے میں معاشی استحکام آیا۔ مزید برآں، انہوں نے 'بیت المال' (سرکاری خزانہ) قائم کیا، جس کے ذریعے زکوٰۃ اور محصولات جمع کیے جاتے تھے اور انہیں غریبوں، طلباء اور فلاحی کاموں پر خرچ کیا جاتا تھا، جس نے پرانی ظالمانہ معاشی اجارہ داریوں کو توڑا۔
تاریخی بیانیے کی تبدیلی: 1744 کے بجائے 1727 کیوں؟
یہ اس پورے مباحثے کا سب سے دلچسپ اور اہم پہلو ہے۔ دہائیوں تک سعودی عرب کے اندر اور باہر یہ پڑھایا اور سمجھا جاتا رہا کہ پہلی سعودی ریاست کا آغاز 1744ء میں ہوا تھا۔ 1744 وہ سال ہے جب امام محمد بن سعود نے مشہور مذہبی مصلح شیخ محمد بن عبدالوہاب کو درعیہ میں پناہ دی اور ان کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ (جسے میثاقِ درعیہ کہا جاتا ہے) طے پایا۔ اس بیانیے کی وجہ سے دنیا بھر میں سعودی ریاست کو محض "وہابیت" کی سیاسی پیداوار سمجھا جانے لگا۔
لیکن آج کی سعودی قیادت اور جدید تاریخ دان اس بیانیے کو ایک "تاریخی غلطی" یا نامکمل سچ قرار دیتے ہیں۔ کنگ سعود یونیورسٹی میں اس وقت سیاسی سماجیات کے ممتاز سعودی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد الدخیل کے مطابق، سعودی ریاست کی تاریخ کو محض ایک مذہبی تحریک یا "شرک کے خلاف جنگ" تک محدود کر کے خود ریاست کے قد کو چھوٹا کر دیا گیا تھا ۔
تاریخ کو 1744 سے ہٹا کر 1727 پر لانے کا مقصد ان ابتدائی 17 سالوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے جنہیں ماضی کے مؤرخین (جیسے ابن غنام (1739 – 1811) اور ابن بشر (1796 – 1873)) نے مذہبی عقیدت میں نظر انداز کر دیا تھا۔ نیا بیانیہ یہ ثابت کرتا ہے کہ جب شیخ محمد بن عبدالوہاب درعیہ آئے، تو اس وقت وہاں پہلے سے ایک مستحکم، معاشی طور پر خوشحال، اور سیاسی و عسکری لحاظ سے آزاد ریاست موجود تھی جس کی بنیاد 1727 میں ہی رکھی جا چکی تھی۔ لہٰذا، ریاست کی قانونی اور سیاسی حیثیت (Political Legitimacy) کسی مخصوص مذہبی تحریک کی محتاج نہیں، بلکہ یہ آلِ سعود کی سیاسی بصیرت، حکمرانی، اور قبائل کو متحد کرنے کی صلاحیت پر استوار ہے۔
ولی عہد محمد بن سلمان، وژن 2030 اور ریاست کا نیا خاکہ
یومِ تاسیس کا یہ نیا تصور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے 'وژن 2030' کے وسیع تر مقاصد سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ وژن 2030 کا مقصد سعودی عرب کو تیل پر انحصار کرنے والی معیشت سے نکال کر ایک متنوع (Diversified)، جدید اور متحرک معاشرے میں تبدیل کرنا ہے ۔ اس مقصد کے حصول کے لیے معاشرتی اور ثقافتی سطح پر بڑی اصلاحات کی ضرورت تھی۔
ماضی میں 1744 کے بیانیے نے مذہبی طبقے (Ulema) اور مذہبی پولیس کو ریاست کے ہر معاملے میں مداخلت کا بے پناہ جواز فراہم کر رکھا تھا۔ محمد بن سلمان نے اس قدامت پسند مذہبی گرفت (جسے وہ 2022 میں 'دی اٹلانٹک' میگزین کو دیئے گئے اپنے طویل انٹرویو میں 1979 کے بعد کی شدت پسندی سے بھی جوڑتے ہیں) کو کم کرنے کے لیے ریاست کو اس کی اصل "سیاسی اور قومی جڑوں" کی طرف موڑ دیا ہے۔
![]() |
| ویژن 2030 تین بنیادی ستونوں پر استوار ہے: ایک فعال معاشرہ، ایک فروغ پاتی ہوئی معیشت، اور ایک پُرعزم قوم۔ |
یومِ تاسیس کے ذریعے موجودہ قیادت سعودی عوام کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ ان کی شناخت محض الاخوان نامی وہابی مذہبی ملیشیا یا کسی اورسخت گیر مذہبی نظریات کی پیداوار نہیں ہے، بلکہ یہ شہریت (Citizenship)، قانون کی حکمرانی، اور ایک ایسے سماجی معاہدے پر مبنی ہے جو ریاست اور عوام کے درمیان موجود ہے۔ یہ دن قومی اتحاد کی علامت ہے، جو تمام شہریوں کو ان کے علاقائی، قبائیلی یا مسلکی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک پرچم تلے جمع کرتا ہے ۔
نئے بیانیہ کی بین الاقوامی اہمیت اور سافٹ پاور (Soft Power) کا استعمال
سعودی قیادت اس 300 سالہ تاریخ کو عالمی سطح پر اپنی 'سافٹ پاور' (Soft Power) کو بڑھانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ مغربی میڈیا اور پالیسی ساز اکثر خلیجی ریاستوں کو طنزیہ طور پر "پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ اور فرانس کے ذریعہ 'سائیکس پیکو معاہدہ' کے تحت کھینچی گئی لکیروں کی پیداوار" یا "تیل کی دولت سے راتوں رات بننے والے ممالک" قرار دیتے ہیں۔
1727ء کا سال دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ سعودی ریاست امریکہ (جس کا قیام 1776 میں ہوا) اور انقلاب فرانس (1789) سے بھی پہلے ایک خود مختار اور آزاد سیاسی اکائی کے طور پر وجود میں آ چکی تھی۔ سعودی عرب کے پاس ریاست سازی، عروج و زوال، اور بقا کی ایک شاندار مقامی اور خالصتاً عرب تاریخ موجود ہے۔ سعودی مملکت تین بار قائم ہوئی: پہلی ریاست (1727 - 1818)عثمانیوں اور مصریوں کی یلغار سے تباہ ہوئی، دوسری ریاست (1824 - 1891) اندرونی خلفشار سے ٹوٹی، اور تیسری موجودہ ریاست 1902 میں شاہ عبدالعزیز نے قائم کی جو ابھی تک قائم و دائم ہے۔ یہ مسلسل تسلسل (Continuity) اور لچک (Resilience) اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ریاست محض نقشے پر یورپ کی کھینچی ہوئی چند لکیروں اور تیل کی وافر دولت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک مضبوط قومی جذبے، زیرک قیادت اور مصمم عوامی حمایت پر کھڑی ہے ۔
ثقافتی سفارتکاری کے میدان میں، یومِ تاسیس نے سعودی عرب کے تاریخی مقامات، خاص طور پر درعیہ کے 'الطریف' ڈسٹرکٹ (جسے 2010 میں یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا تھا) کو ایک عالمی سیاحتی مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ حکومت کی طرف سے اربوں ڈالر کے "درعیہ گیٹ" (Diriyah Gate) جیسے میگا پراجیکٹس اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ثقافت اور ورثہ اب سعودی معیشت اور شناخت کا نیا ایندھن ہیں۔
عرب اور مسلم دنیا میں اس کی اہمیت
اس نئے بیانیے کی عرب اور مسلم دنیا میں بھی گہری اہمیت ہے۔ ایک طویل عرصے تک سعودی عرب کی قیادت کا جواز صرف اور صرف حرمین شریفین کی پاسبانی (مذہبی جواز) اور پیٹرو ڈالر (مذہبی کاموں کے لیےمالی تعاون) پر مبنی تھا۔ یومِ تاسیس اس میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرتا ہے، جسے "تہذیبی اور تاریخی جواز" کہا جا سکتا ہے۔ یہ خطے کے دیگر طاقتور ممالک کو یہ پیغام ہے کہ سعودی عرب خطے میں کوئی نیا کھلاڑی نہیں ہے، بلکہ اس کا سیاسی ڈھانچہ صدیوں پرانی جڑیں رکھتا ہے، جس کی نہ تو عثمانیوں سے کوئی گٹھ جوڑ تھی اور نہ ہی مغربی استعماری قوتوں کی پشت پناہی حاصل تھی۔ یہ اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ سعودی ریاست کی بنیادیں خالصتاً مقامی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی، وہابیت سے ریاست کو الگ کرنے کا یہ عمل عالمی برادری اور مسلم ممالک کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے سعودی عرب کو اپنے آپ کو ایک ایسی جدید اور روادار (Tolerant) ریاست کے طور پر پیش کرنے میں مدد مل رہی ہے جو شدت پسندی کے طعنوں سے آزاد ہو کر اپنے شہریوں کو آرٹ، ثقافت، تفریح اور روشن مستقبل کی طرف لے جا رہی ہے ۔ چونکہ عالمی سطح پر سعودی عرب کو بجا طور پر مسلم امہ کے ایک قائدانہ مرکز کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے اس کے ریاستی بیانیے میں لچک، رواداری اور 'معتدل اسلام' (Moderate Islam) کو اپنانے کے اثرات ناگزیر طور پر دیگر مسلم ممالک پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس فکری تبدیلی کے نتیجے میں مجموعی طور پر پوری دنیا کے مسلمانوں اور خاص طور پر ہندوستانی مسلمانوں کے سماجی و سیاسی رویوں میں بھی اس کے دوررس اور مثبت اثرات دیکھنے کو ملیں گے۔"
حرفِ آخر
سعودی عرب کا 22 فروری کو یومِ تاسیس منانا محض ایک تاریخی جشن نہیں ہے، بلکہ یہ ایک قوم کے اپنے آپ کو دوبارہ دریافت کرنے کا عمل ہے۔ یہ ایک ایسی مملکت کی کہانی ہے جس نے تاریخ کے تاریک اور مشکل ترین ادوار کا مقابلہ کیا، تباہی کے بعد راکھ سے دوبارہ اٹھ کھڑی ہوئی، اور آج جدید دنیا کے شانہ بشانہ چلنے کے لیے تیار ہے۔
شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کا 1727ء کی تاریخ کو زندہ کرنا دراصل وژن 2030 کے اس خواب کی تکمیل ہے، جس میں سعودی عرب کو ایک ایسا ملک بنانا ہے جس کی جڑیں اس کی مٹی اور ثقافت میں گہری ہوں، لیکن جس کی شاخیں آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہوں۔ یہ بیانیہ واضح کرتا ہے کہ سعودی عرب کی طاقت کا اصل راز اس کے تیل کے کنوؤں میں نہیں، بلکہ اس کے عوام کی ہمت، اس کے حکمرانوں کی سیاسی بصیرت، اور اس کی تین سو سالہ شاندار تاریخ میں پوشیدہ ہے۔
ڈاکٹر آصف نواز
اسسٹنٹ پروفیسر
ہمدرد انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز (HIIS)
جامعہ ہمدرد، نئی دلی
draasifnawaz@gmail.com
9013228794





Comments
Post a Comment