اسلام آباد مفاہمتی یاداشت: ایک تجزیہ

 اسلام آباد مفاہمتی یادداشت: ایک تجزیہ

 

ڈاکٹر آصف نواز

اسسٹنٹ پروفیسر

ہمدرد انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز (HIIS)

جامعہ ہمدرد، نئی دلی

draasifnawaz@gmail.com

9013228794


گزشتہ چند دہائیوں سے مغربی ایشیا کی جغرافیائی سیاسی افق پر جاری خونی کشمکش اب ایک ایسے نازک موڑ پر آ پہنچی ہے، جہاں بلند بانگ دعوے، سفارتی معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں زمینی حقائق کی سفاکی کے سامنے بے معنی اور بے اثر دکھائی دیتی ہیں۔ چند روز قبل یعنی 18 جون 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا 'اسلام آباد میمورنڈم آف انڈر اسٹینڈنگ' (MoU) بھی ایسی ہی ایک سفارتی کوشش ہے، جسے بظاہر خطے میں جاری کشیدگی کو روکنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حقیقت میں یہ صرف ایک وقتی اسٹریٹیجک ریلیف ہے۔ اس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کرنا شاخ نازک پر آشیانہ بنانے کے مترادف ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والا یہ معاہدہ اگرچہ فریقین کے درمیان براہِ راست تصادم کی شدت کم کرنے کی ایک کوشش ہے، مگر اس میں غزہ کے عوام کی تکالیف اور اسرائیل کے عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں اور فوجی کارروائیوں کے سبب لبنان کا سکڑتا ہوا جغرافیہ جیسے اہم انسانی اور علاقائی المیوں پر مکمل خاموشی، اس کی اخلاقی اور اسٹریٹیجک بنیادوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ مفاہمتی یادداشت بنیادی طور پر ایک 'قلیل المدتی جنگ بندی' ہے، جو یقینا بڑے طاقتور فریقین بشمول ایران کے مفادات کا تحفظ تو کرتی ہے، لیکن اُن زخموں پر مرہم رکھنے سے قاصر ہے جو گزشتہ برسوں میں امریکہ کی شہ پر اسرائیل کی جاری جارحیت اور خطے کے دوسرے ممالک کی خاموش تماشہ بینی اور بے عملیوں کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک لاعلاج ناسور بنتے جا رہے ہیں۔

 

14 نکات پر مشتمل یہ میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ  بنیادی طور پر ایک "سیز فائر" (جنگ بندی) کی دستاویز ہے جس کا ہر پہلو امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم کے خاتمے پر مرکوز ہے۔ معاہدے کے پہلے تین نکات فوری جنگ بندی کے نفاذ، باہمی خودمختاری کے احترام اور ساٹھ دن کے اندر حتمی امن معاہدے کی ڈیڈ لائن مقرر کرتے ہیں، جبکہ چوتھے سے ساتویں نکتے میں معاشی ناکہ بندی کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی اور خلیجی ممالک کے اشتراک سے 300 بلین ڈالر کے تعمیرِ نو فنڈ کے قیام کا ذکر ہے، جو معاہدے کا سب سے اہم پہلو ہے۔ آٹھواں نکتہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کا عدم حصول، اس سے دستبرداری اور اس ضمن میں عالمی نگرانی کو قبول کرنے پر مبنی ہے، جبکہ نویں سے گیارہویں نکات میں بینکنگ، تیل کی برآمدات اور منجمد اثاثوں کی بحالی کے ذریعے ایران کو فوری مالیاتی ریلیف فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ جبکہ آخری تین نکات معاہدے کے نفاذ، نگرانی کے طریقہ کار اور اسے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرارداد کے ذریعے بین الاقوامی قانونی حیثیت دینے کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان تمام نکات کا اگر باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ پورا فریم ورک ایک ایسی یکطرفہ حکمتِ عملی کا حصہ ہے جو لبنان میں اسرائیل کی کھلی فوجی پیش قدمی اور غزہ کے انسانی المیے کو نظر انداز کرتے ہوئے، محض بڑی طاقتوں کے سکیورٹی اور معاشی مفادات کے تحفظ کا ایک "اسٹریٹیجک سودا" معلوم ہوتاہے۔

 

اگرچہ اس میمورنڈم کے پہلے نکتے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، لیکن یہاں سب سے بڑا تضاد اور اسٹریٹیجک خلا اس معاہدے میں یہ ہے کہ یہ محض امریکہ اور ایران کے درمیان ایک دو طرفہ (Bilateral) سمجھوتہ ہے، جبکہ لبنان میں جاری اصل جارحیت اور فوجی پیش قدمی کا سرغنہ اسرائیل ہے، جو کہ اس مفاہمتی یادداشت کا نہ تو دستخط کنندہ ہے اور نہ ہی اسے تسلیم کرنے کا پابند۔ یہ صورتحال ایک ایسے سفارتی بھنور کو جنم دیتی ہے جہاں ایک طرف تو واشنگٹن اور تہران جنگ کے خاتمے کے اعلانات کر رہے ہیں، اور دوسری طرف اسرائیل اپنی 'کارروائی کی آزادی' (Freedom of Action) اور حق خود دفاع (Self Defence) کے نام پر اس معاہدے کو سرے سے مسترد کر کے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ چنانچہ، لبنان میں جنگ بندی کی شق محض کاغذ کا ایک ٹکڑا بن کر رہ گئی ہے، کیونکہ جس فریق کے پاس وہاں طاقت کا پلڑا بھاری ہے، اسے کسی بھی بین الاقوامی سفارتکاری یا 'اسلام آباد میمورنڈم' کے اخلاقی یا قانونی دائرہ کار میں لانے کی کوئی موثر کوشش نہیں کی گئی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ زمینی حقائق کے بجائے محض بڑے طاقتور فریقین کے مابین ایک وقتی توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔

 

اس پسِ منظر میں یہ سوال انتہائی اہم ہو جاتا ہے کہ جب اسرائیل خود اس پوری جنگ کا مرکزی کردار تھا، تو پھر اسے اس مفاہمتی یادداشت کے عمل سے مکمل دور کیوں رکھا گیا؟ جب اسرائیل اس معاہدے کا حصہ ہی نہیں ہے، تو ہم اس سے اس کی پاسداری کی توقع کیوں کر رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نہ صرف اس پورے عمل سے باہر ہے، بلکہ وہ اسے اپنی سکیورٹی کے لیے ایک اسٹریٹیجک خطرہ سمجھتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب تک کسی معاہدے میں تمام کلیدی فریقین شامل نہ ہوں، اس کی افادیت ہمیشہ مشکوک رہتی ہے۔ اسرائیل، جو اس وقت نیتن یاہو کی قیادت میں ایک ایسی فوجی مہم جوئی پر گامزن ہے جس کا واضح مقصد لبنان کے لیتانی دریا تک اپنا تسلط قائم کرنا ہے، وہ اس میمورنڈم کی کسی بھی شق کو ماننے کا پابند نہیں ہے؛ اور یہی وہ نقطہ ہے جو اس پورے معاہدے کو ایک بے سود سفارتی مشق میں تبدیل کر دیتا ہے۔

 

مزید برآں، 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع امریکی اور ایرانی حکام کی ملاقات کا التوا "اسلام آباد میمورنڈم" کی سفارتی ساخت میں موجود بنیادی کمزوریوں کو مزید عیاں کر دیتا ہے۔ دستخط کے محض 24 گھنٹوں کے اندر تکنیکی مذاکرات کا رک جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل دستخط تو محض ایک سفارتی علامتی عمل تھے، جبکہ اصل چیلنج اس معاہدے کا "تکنیکی نفاذ" (Implementation Roadmap) تھا۔ درحقیقت، سوئٹزرلینڈ میں اس ملاقات کی ضرورت اس لیے تھی کہ جوہری پروگرام کی نگرانی، ایران کے منجمد اثاثوں کی منتقلی کے طریقہ کار، اور خلیجی ممالک کے اشتراک سے تعمیرِ نو فنڈ کے تکنیکی ڈھانچے کو حتمی شکل دی جا سکے، کیونکہ مفاہمتی یادداشت کے عمومی نکات زمینی حقائق کے مطابق نافذ کرنے کے لیے ایک ٹھوس روڈ میپ ناگزیر تھا۔ تاہم، اس ملاقات کا اچانک التوا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں اب معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔ اس التوا کے پیچھے کارفرما محرکات میں سب سے اہم عنصر سکیورٹی اور سفارتی تعطل ہے؛ اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں "انخلا کے احکامات" اور لیتانی دریا تک پیش قدمی نے معاہدے کے پہلے نکتے یعنی "فوری جنگ بندی" کی کھلی خلاف ورزی کی ہے، جس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ایرانی قیادت کے لیے امریکہ کے ساتھ تکنیکی مذاکرات جاری رکھنا سیاسی طور پر ناممکن ہو گیا ہے۔

 

مزید برآں، اس میمورنڈم کا سب سے تکلیف دہ اور غیر انسانی پہلو اس میں 'غزہ' کے مسائل کا مکمل تذکرہ نہ ہونا ہے۔ اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والا یہ المیہ، جس نے اپنی ہولناکیوں سے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، آج ایک ایسی حالت میں پہنچ چکا ہے جہاں اسے باضابطہ طور پر عالمی اور مغربی ایشیا کے علاقائی سفارتی ایجنڈے سے خارج کر دیا گیا ہے۔ غزہ کے عوام کی نہ ختم ہونے والی تکالیف اور ان کی نسل کشی کو بڑی طاقتوں بشمول ایران نے اس طرح بھولا دیا ہے جیسے کہ وہ ان عالمی طاقتوں کی شطرنج کی بساط پر کوئی وجود ہی نہیں رکھتے۔ یہ خاموشی محض ایک سفارتی بھول نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی اسٹریٹیجک بیدخلی ہے، جس میں غزہ کے مسئلے کو 'غیر متعلقہ' قرار دے کر اسے تاریخ کے صفحات سے ہمیشہ کے لیے مٹا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سیاق میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعہ جس 'غزہ پیس بورڈ' (Gaza Peace Board) کو کبھی اقوام متحدہ کے متبادل اور امن کی آخری امید کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اس کا مستقبل بھی آج تاریکی کا شکار ہو گیا ہے؛ نہ تو اس کی کوئی فعالیت نظر آتی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی قانونی حیثیت باقی رہی ہے۔ آج غزہ کے مظلوموں کی آواز دنیا کے کسی بھی بڑے ایوان میں گونجتی دکھائی نہیں دیتی۔ جس ایران کو کبھی ان کی مزاحمت کا سب سے بڑا سرپرست اور آواز سمجھا جاتا تھا، وہ بھی اب اسلام آباد میمورنڈم کے جال میں پھنس کر اپنی بقا کی جنگ میں الجھ گیا ہے۔ یوں غزہ کا مسئلہ، جو اس پورے علاقائی بحران کی جڑ اور بنیاد تھا، اب سفارتکاری کی میز سے غائب ہو چکا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی طاقتوں نے بشمول ایران کے غزہ کو مکمل طور پر اسرائیل کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنی ترجیحات کو صرف اپنے ملک کے سکیورٹی اور معاشی مفادات تک محدود کر لیا ہے۔ اور مزید یہ کہ ایران بھی اسلام آباد میمورنڈم کے تحت اپنی معاشی بقا اور سیاسی وجود کو بچانے کے لیے غزہ کے معاملے سے دستبردار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ تاریخ کا ایک تاریک سبق ہے: جب ریاستیں اپنی بقا کے لیے لڑتی ہیں، تو وہ اکثر اپنے نظریاتی ساتھیوں کو خیرباد کہہ دیتی ہیں۔

 

اس کے ساتھ ساتھ، لبنان کا منظرنامہ بھی اس سفارتی تماشا گاہ کا ایک دوسرا تاریک ترین پہلو ہے۔ 'اسلام آباد میمورنڈم' پر دستخط ہوئے ابھی چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ رپورٹیں آنے لگیں کہ اسرائیل نے لبنان میں اپنی عسکری کارروائیاں نہ صرف جاری رکھی ہوئی ہیں بلکہ ان میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ اسرائیل کی یہ پیش قدمی تمام تر بین الاقوامی، انسانی، اخلاقی اور سفارتی ضابطوں کی کھلی پامالی ہے؛ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے 'انخلا کے جبری احکامات' (Mass Evacuation Orders) کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ یہ خلاف ورزیاں محض تکنیکی یا قانونی نوعیت کا مسئلہ نہیں ہیں، بلکہ ایک خود مختار ریاست کی سالمیت اور اس کی جغرافیائی حدود پر ایک ظالمانہ دست درازی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسرائیل درحقیقت ایک نہایت سوچی سمجھی اسٹریٹیجک حکمت عملی پر گامزن ہے جس کا واضح مقصد جنوبی لبنان کے ایک وسیع رقبے کو لیتانی دریا تک انسانی آبادی سے خالی کروا کر وہاں ایک ایسی 'بفر زون' قائم کرنا ہے، جس پر اسرائیل کو عسکری کنٹرول حاصل ہو جائے ۔ یہ قوی امکان ہے کہ مستقبل میں عالمی دباؤ کے تحت اسرائیل لبنان کے کچھ مقبوضہ علاقے واپس کرنے کا ڈرامہ تو رچائے گا، مگر لیتانی کے ساحلی اور آبی ذخائر والے اسٹریٹیجک علاقوں سے وہ کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ اس کی بنیادی وجہ خطے میں بڑھتا ہوا پانی کا بحران ہے، جسے اسرائیل اپنی قومی سلامتی کا لازمی جزو سمجھتا ہے۔ چنانچہ، اسرائیل کا یہ یکطرفہ اقدام اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہے کہ اسے اپنے اسٹریٹیجک اور ملکی مفادات کے حصول کے لیے کسی بھی بین الاقوامی قانون یا اخلاقی بندھن کی کوئی پرواہ نہیں، تو پھر وہ 'اسلام آباد میمورنڈم' کی پرواہ کیوں کرے گا؟ اسے بخوبی علم ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے خط وخال میں اس کے اسٹریٹیجک عزائم کے لیے کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی، اور یہی خلاف ورزی اس معاہدے کی افادیت کو زمین بوس کرنے کے لیے کافی ہے۔

 

اس میمورنڈم کا چھٹا نکتہ اسٹریٹیجک اعتبار سے سب سے پیچیدہ اور دلچسپ ہے، جس میں ایران کی تعمیرِ نو کے لیے 300 بلین ڈالر کے خطیر فنڈ کی تجویز دی گئی ہے؛ مگر اس کا بوجھ امریکہ اٹھانے کے بجائے خلیجی ممالک پر ڈال رہا ہے۔ یہ بظاہر ایک سفارتی سمجھوتہ لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک ایسا 'اسٹریٹیجک سودا' ہے جس میں خلیجی ریاستیں خطے میں امن اور استحکام کو بھاری قیمت ادا کر کے خریدنے پر مجبور ہیں۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان یہ کشیدگی مزید جاری رہتی ہے، تو ان خلیجی ریاستوں کی معیشتیں، جو براہِ راست تیل کی بین الاقوامی ترسیل اور سمندری راستوں پر منحصر ہیں، مکمل تباہی سے دوچار ہو جائیں گی۔ تاریخی شواہد پر نظر ڈالیں تو دنیا میں جنگوں کے بعد ہونے والے معاہدوں میں عام طور پر جارح فریق پر تاوان اور جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، اور اس منطق کی رو سے اس جنگ کے اصل محرک اور جارح امریکہ اور اسرائیل کو ہی اس تعمیرِ نو کا بوجھ اٹھانا چاہیے تھا۔ تاہم، امریکہ نے انتہائی ہوشیاری سے اس کا سارا ملبہ خلیجی ممالک پر ڈال دیا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر اس نے خود یا اسرائیل سے ادائیگی کا مطالبہ کیا، تو یہ ایک ایسی نئی قانونی اور اخلاقی بحث کو جنم دے گا جس سے گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران امریکہ و اسرائیل کے ہاتھوں متاثر ہونے والے دیگر ممالک بھی اپنے نقصانات کا معاوضہ مانگنے کے لیے کھڑے ہو جائیں گے۔ یوں خلیجی ممالک کو ایک 'بلی کا بکرا' بنا دیا گیا ہے تاکہ 'سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے'۔ اس جنگ کے دوران سب سے زیادہ مالی اور بنیادی ڈھانچے کا نقصان اٹھانے والے بھی یہی خلیجی ممالک ہیں، جن کی معاشی سرگرمیاں تعطل کا شکار رہیں اور تیل کی پیداوار سے لے کر نقل و حمل تک ہر شعبہ شدید متاثر ہوا ہے۔ چنانچہ، ان کی مجبوری یہ ہے کہ خطے میں امن و استحکام کی بحالی ان کی معاشی بقا کے لیے ناگزیر ہے، تاکہ ان کی معیشت کا پہیہ دوبارہ چل سکے اور وہ جنگ سے پہلے کی خوشحالی کی جانب لوٹ سکیں۔ 

اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو، یہ جنگ کسی بھی فریق کی فیصلہ کن شکست نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا سودا ہے جس میں ہر فریق نے نہ صرف یہ کہ اپنے نقصان کو محدود کیا ہے بلکہ مزید کچھ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ اپنی معاشی و عسکری ساکھ کو بچا رہا ہے، ایران اپنی تباہ حال معیشت کو دوبارہ کھڑا کرنے کا موقع پا رہا ہے، اور اسرائیل اپنی سرحدوں کو اسٹریٹیجک وسعت دے رہا ہے۔ اس پورے مکروہ عمل میں اگر کوئی گروہ واقعی شکست خوردہ ہے، تو وہ فلسطین اور لبنان کے بے بس عوام ہیں، اور اگر کوئی اس جنگ کی حقیقی مالی قیمت اپنی جیب سے ادا کر رہا ہے، تو وہ خلیجی ریاستیں ہیں جن کا سرمایہ اب اس خطے میں امن کی 'بحالی' کے نام پر ایران کی تعمیر نو کی نذر ہو گی جنہیں دراصل جنگ کے اصل ذمہ داروں (امریکہ اور اسرائیل) کو ادا کرنا چاہیے تھا۔

 

اس مفاہمتی یادداشت کا ایک تضاد یہ بھی ہے کہ جہاں عالمی برادری اور بین الاقوامی مبصرین اس کے بیشتر نکات کو ایران کے حق میں ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں اور اسرائیلی قیادت اس پر تنقید کر رہی ہے، وہیں تہران کے ایوانوں اور عوامی سطح پر اس معاہدے کو عالمی امیدوں کے برعکس ایک مشکوک اور پیچیدہ پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کے طاقتور پاسدارانِ انقلاب اور سخت گیر نظریاتی حلقوں میں یہ شدید بے چینی پائی جاتی ہے کہ یہ 'اسلام آباد میمورنڈم' درحقیقت ایران کی برسوں کی مزاحمتی پالیسی پر ایک کاری ضرب اور 'سفارتی پسپائی' کے مترادف ہے۔ اسی تناظر میں، ایران کے سپریم لیڈر، آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا جاری کردہ حالیہ بیان سیاسی توازن قائم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ انہوں نے انتہائی نپے تلے الفاظ میں اس معاہدے کو "مجبوری کی حکمتِ عملی" قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ یہ میمورنڈم ملک کو مکمل معاشی تباہی اور بیرونی دباؤ کے بھنور سے نکالنے کے لیے ایک وقتی ناگزیر قدم تھا، مگر اسے کسی بھی صورت میں خطے کی 'استکباری طاقتوں' کے سامنے نظریاتی ہتھیار ڈالنے یا اپنے دیرینہ اصولوں سے انحراف کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح طور پر اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کا دفاعی ڈھانچہ، میزائل پروگرام اور 'علاقائی مزاحمتی بلاک' (Axis of Resistance) کے ساتھ وابستگی اس معاہدے کی کسی بھی شق یا بیرونی شرائط سے مشروط نہیں ہے۔ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ بیان دراصل ان سخت گیر عناصر کے غیض و غضب کو ٹھنڈا کرنے کے لیے تھا جو اس معاہدے کو 'نظریاتی سمجھوتہ' قرار دے رہے ہیں۔ اس بیان کا بنیادی مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنے والے ان حلقوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ ریاستی بقا کو اس وقت مقدم رکھا گیا ہے، لیکن مزاحمت کا بنیادی جوہر ہرگز ختم نہیں ہوا ہے۔ ایران کی قیادت کے لیے آج سب سے بڑا چیلنج اس توازن کو برقرار رکھنا ہے کہ ایک جانب وہ اس معاہدے کے تحت ملنے والے معاشی ثمرات سے اپنی عوام کو ریلیف فراہم کریں، اور دوسری جانب اپنے دیرینہ انقلابی تشخص اور نظریاتی حلیفوں کے سامنے بھی سرخرو رہیں۔ یہ دو طرفہ دباؤ ایران کے لیے کسی 'جوئے شیر لانے' سے کم نہیں ہے، کیونکہ انہیں اپنی بقا کے لیے ایک ایسی سفارتی لکیر پر چلنا ہے جو بظاہر ان کے اپنے ہی دیرینہ موقف اور زمینی حقائق کے درمیان متصادم نظر آتی ہے۔

 

دوسری جانب، واشنگٹن کے ایوانوں میں اس میمورنڈم کو ایک بڑی 'سفارتی اور انتخابی کامیابی' کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کے لیے یہ معاہدہ ایک ایسے لاحاصل تنازع سے باوقار طریقے سے نکلنے کا راستہ فراہم کرتا ہے جس کا نہ کوئی واضح انجام تھا اور نہ ہی کوئی حتمی اسٹریٹیجک فائدہ؛ یہ ایک ایسا 'سیاسی ایگزٹ پلان' ہے جو موجودہ انتظامیہ کو نومبر میں طے شدہ نصف مدتی انتخابات کے قریب پہنچ کر خود کو ایک 'امن ساز' کے طور پر پیش کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، معاہدے میں درج 60 دن کی ڈیڈ لائن انتہائی قلیل اور ناقابلِ عمل دکھائی دیتی ہے۔ جوہری پروگرام کی سخت نگرانی، ایران پر عائد دہائیوں پرانی پابندیوں کا ایک منظم خاتمہ، اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایک پائیدار علاقائی سکیورٹی فریم ورک کا قیام—یہ سب ایسے عظیم الشان اہداف ہیں جنہیں صرف دو ماہ کے مختصر عرصے میں مکمل کرنا سفارتی تاریخ کے اعتبار سے تقریباً ناممکن لگتا ہے۔ ایسی غیر حقیقت پسندانہ ٹائم لائن یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ نے اس معاہدے میں 'پائیداری' کے بجائے 'فوری نتائج' کو ترجیح دی ہے، تاکہ وہ عوامی رائے عامہ کو مطمئن کر سکے اور نصف مدتی انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس لیے یہ خدشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر 60 دنوں کے اندر معاملات طے نہ ہو سکے، تو یہ 'سفارتی کامیابی' بہت جلد ایک نئی 'سفارتی ناکامی' میں بدل سکتی ہے، جس کے بعد واشنگٹن کے پاس دوبارہ وہی پرانی پالیسی اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جائے گا۔

 

ابھی تک اس مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے جو ابتدائی ردِ عمل اور تاثرات سامنے آ رہے ہیں، اُن سے یہی اندیشہ جنم لے رہا ہے کہ 'اسلام آباد میمورنڈم' امن کی نوید لانے کے بجائے تنازعات کو ایک زیادہ پیچیدہ اور خطرناک مرحلے میں دھکیل نہ دے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ایک ایسی 'جنگ بندی' ہے جو بظاہر بندوقوں کی آواز کو تو وقتی طور پر خاموش کر سکتی ہے، مگر نفرت کی اس آگ کو ٹھنڈا کرنے سے قاصر ہے جو گزشتہ برسوں میں خطے کی رگوں میں سرایت کر چکی ہے۔ جب تک اس معاہدے کے دائرہ کار میں غزہ کے جاری انسانی المیے، لبنان کی پامال خود مختاری اور اسرائیل کی بلا روک ٹوک جارحیت کو شامل نہیں کیا جاتا، یہ دستاویز ایک سطحی 'وقتی ریلیف' سے زیادہ کچھ نہیں۔ اور اگر 60 دنوں کی ڈیڈ لائن کے اندر اس میمورنڈم کا کوئی ٹھوس اور حتمی نتیجہ برآمد نہ ہوا، تو خطہ ایک ایسی ہمہ گیر جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کی شدت اور تباہ کاری گزشتہ تمام جنگوں سے کہیں زیادہ سنگین ہوگی۔

 

اس سارے منظرنامے کو بین الاقوامی تعلقات کے ایک طالبِ علم کی نظر سے دیکھوں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ 'اسلام آباد میمورنڈم' مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک 'کیمیائی علاج' (Chemotherapy) کی مانند ہے—جو شاید کینسر کے کچھ خلیات کو وقتی طور پر دبا دے، لیکن اس کے مضر اثرات مریض (خطے) کو مکمل طور پر نڈھال اور کمزور کر دیں گے۔ اس جنگ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ، اس جنگ کے بعد اصل شکست اس فرسودہ سوچ کی ہوئی ہے جس نے یہ باور کر رکھا تھا کہ میزائلوں، ڈرونز اور طاقت کے توازن یا عدم توازن سے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ اس خطے میں حقیقی اور پائیدار امن تب تک ممکن نہیں جب تک غزہ میں معصوم بچوں کی چیخیں اور لبنان میں برباد ہوتے گھروں کی آہیں مذاکرات کی میز پر موجود نہ ہوں۔ آج کی سفارتکاری کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ اس نے طاقت کے زور کو تو پہچان لیا، لیکن انسانیت کے درد کو مکمل طور پر پسِ پشت ڈال دیا۔ ہم ایک ایسے تاریک دور میں جی رہے ہیں جہاں طاقتور فریقین اپنے مفادات کے لیے آپس میں تو معاہدے کر رہے ہیں، مگر ان فیصلوں میں کمزوروں اور پسے ہوئے طبقات کا ذکر تک نہیں کیا جا رہا۔ تاریخ اس میمورنڈم کو کس طرح یاد رکھے گی، اس کا فیصلہ تو آنے والے چند مہینوں کی پیش رفت کرے گی، لیکن فی الحال تو مشرقِ وسطیٰ کے افق پر امن کے روشن ستاروں کے بجائے تاریکی کے مزید گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی لبنان میں بڑھتی ہوئی فوجی پیش قدمی، فلسطین میں جاری غیر اعلانیہ جنگ اور ایران کے داخلی حلقوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی—یہ سب مل کر ایک ایسے طوفان کا پیش خیمہ ہیں جسے کاغذ کے کسی 'میمورنڈم' سے نہیں روکا جا سکتا۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ دنیا یہ سمجھے کہ کسی بھی معاہدے کی کامیابی دستخط کرنے والے فریقین کی تعداد پر نہیں، بلکہ انصاف کے اس معیار پر منحصر ہوتی ہے جس پر اسے استوار کیا گیا ہو۔ اور افسوس کہ اسلام آباد میمورنڈم، اپنی تمام تر سفارتی چمک دمک اور عالمی شور و غوغا کے باوجود، انصاف اور انسانیت کے اس بنیادی معیار پر پورا نہیں اترتا۔

Comments

Popular posts from this blog

Gen Z–Led Uprising in Nepal: Ripple Effects in South Asia, and Why India's Robust Democracy Makes Uprisings Unlikely and Unnecessary

ईरान का परमाणु भविष्य: कूटनीति या टकराव की ओर?

UN Chief Calls for Two-State Solution and Humanitarian Law at Arab Summit Amid Gaza Crisis Escalation