سعودی عرب کا یومِ تاسیس: تین صدیوں پر محیط تاریخ، نیا قومی بیانیہ اور وژن 2030
ڈاکٹر آصف نواز اسسٹنٹ پروفیسر ہمدرد انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز (HIIS) جامعہ ہمدرد، نئی دلی draasifnawaz@gmail.com 9013228794 قوموں کی تاریخ محض گزرے ہوئے واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ وہ فکری اور سیاسی بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر ان کے شاندار مستقبل کی عمارت استوار کی جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص جزیرہ نما عرب کا کلیدی ملک، جسے 1932ء سے 'مملکتِ سعودی عرب' کے نام سے جانا جاتا ہے، تین صدیوں پر محیط ایک شاندار تاریخی وراثت کا امین ہے۔ اس مملکت کے طویل ارتقائی سفر اور تاریخی جدوجہد میں چند ایام ایسی کلیدی اہمیت کے حامل ہیں، جن کی بازگشت اس کی پوری تاریخ میں سنائی دیتی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سال 2022ء تک سعودی عرب میں عوامی سطح پر محض تین سرکاری تعطیلات منائی جاتی تھیں۔ ان میں دو کا تعلق مذہبی تہواروں (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) سے تھا، جبکہ ایک قومی نوعیت کی چھٹی 'سعودی یومِ وطنی' (Saudi National Day) کے طور پر منائی جاتی تھی۔ تاہم، 2022ء میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ایک تاریخی شاہی فرمان کے ذریعے 22 فروری کو 'یومِ تاسیس' (Foundin...